لکھنؤ،26جون ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) لکھنؤ میں واقع پاسپورٹ دفتر میں ایک افسر پر بدسلوکی کا الزام لگانے والے ہندو۔ مسلم جوڑے کو پاسپورٹ جاری کئے جانے کے معاملے میں مقامی پولیس نے آج اپنی رپورٹ سونپ دی۔
پولیس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاسپورٹ سروس افسر وکاس مشرا پر بے جا تبصرے کرنے کا الزام لگانے والی درخواست گزار تنوی سیٹھ گزشتہ ایک سال سے لکھنؤ میں نہیں رہ رہی تھی۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دیپک کمار نے یہاں صحافیوں کو بتایا کہ ہم نے اپنی رپورٹ علاقائی پاسپورٹ آفس کو دی ہے۔تنوی سیٹھ گزشتہ ایک سال سے لکھنؤ میں نہیں رہ رہی تھی، وہ نوئیڈا میں رہتی ہے اوروہیں کچھ کام کرتی ہے۔
واضح رہے کہ محمد انس اور ان کی بیوی تنوی سیٹھ نے گزشتہ ہفتے الزام لگایا تھا کہ وہ گذشتہ 20 جون کو پاسپورٹ کورینیول کے لئے یہاں علاقائی پاسپورٹ آفس گئے تھے جہاں پاسپورٹ سروس آفسر وکاس مشرا نے انس سے کہا کہ وہ ہندو مذہب اپنا لیں۔
انہوں نے تنوی کو ہدایت دی کہ وہ تمام دستاویزات میں اپنا نام تبدیل کردیں۔انہوں نے الزام لگایا ہے کہ جب دونوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تو افسر نے ان پر زور دیا۔
اس واقعہ کے بعد جوڑے نے گھر واپس آ کر انھوں نے وزیر خارجہ سشما سوراج کو پورے واقعے پر ٹویٹ کر دیا۔ معاملہ طول پکڑنے پرملزم آفیسرکووجہ بتاؤنوٹس جاری کرکے اس کاتبادلہ گورکھپورکردیاگیاتھا۔ اس کے بعدانس اور تنوی کو پاسپورٹ جاری کردیاگیاتھا۔
انس اور تنوی نے 2007 میں شادی کی، ان کی 6 سال کی ایک بیٹی ہے اور نوئیڈا میں نجی کمپنی میں دونوں کام کرتے ہیں۔ انس۔ تنوی کے مطابق انہوں نے 19جون کو پاسپورٹ کے لئے درخواست دی تھی اور انہیں 20 جون کو لکھنؤ میں پاسپورٹ سروس سینٹر میں بلایاگیاتھا۔